حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹحوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ دفاع و مسلح افواج کی نظریاتی و سیاسی تنظیم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ضیاء الدین آقاجان پور نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی دعا اور حوصلہ افزا کلمات کی برکت سے مہلک کینسر سے صحت یاب ہوئے۔
انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے رہبرِ شہید اور حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے فوجی کمانڈروں، سائنس دانوں اور شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ رہبرِ شہید کی شخصیت کے بہت سے پہلو ابھی عوام پر پوری طرح آشکار نہیں ہوئے، جن میں ایک ان کی مستجاب الدعوات ہونے کی کیفیت بھی تھی۔
آقاجان پور نے بتایا کہ ستمبر 2022ء میں کرمانشاہ میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد انہیں سینے میں شدید درد محسوس ہوا۔ طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ دائیں جانب مہلک کینسر کا ٹیومر موجود ہے، جو متعدد لمف نوڈز تک پھیل چکا تھا۔ پیتھالوجی رپورٹ میں اسے انتہائی خطرناک سرطان قرار دیا گیا، جس کے بعد ان کا آپریشن، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ علاج کے دوران ان کی جسمانی حالت انتہائی کمزور ہوگئی، بال جھڑ گئے اور وزن میں نمایاں کمی آگئی۔ ڈاکٹروں نے ان کے قریبی ساتھیوں کو بتایا تھا کہ ان کی زندگی کے صرف چند ماہ باقی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسی دوران انہوں نے رہبرِ شہید سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، جو منظور ہوگئی۔ ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے ان کی بیماری دریافت کی، ان کی کیفیت دیکھ کر متاثر ہوئے اور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعا فرمائی۔ بعد ازاں وزارتِ دفاع سے متعلق رپورٹ سننے کے بعد رہبرِ شہید نے اہم ہدایات بھی دیں۔
آقاجان پور کے مطابق، ملاقات کے اختتام پر انہوں نے درخواست کی کہ قندان میں موجود چند قند کے ٹکڑوں پر دعا فرما دیں۔ رہبرِ شہید نے دعا کرکے وہ قند انہیں عطا کیے، پھر ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کی اور فرمایا: "فکر نہ کریں، اپنا حوصلہ برقرار رکھیں۔ ایسی بیماریوں میں سب سے اہم چیز مضبوط حوصلہ ہے۔ اپنے آپ سے کہیں کہ میں ضرور صحت یاب ہو جاؤں گا۔ آپ اس بیماری پر غالب آ جائیں گے اور جلد مکمل صحت حاصل کریں گے۔"
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ملاقات کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے اور آج بھی وزارتِ دفاع میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آقاجان پور نے مزید کہا کہ انہوں نے رہبرِ شہید کی تبرک شدہ قند خود استعمال نہیں کی، بلکہ مختلف مریضوں کو دی، اور ان کے بقول، انہیں بھی شفا حاصل ہوئی۔









آپ کا تبصرہ